Time & Space by Allama Iqbal یمائشِ زمان و مکاں

علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہرچیز کا ایک مقام ہوتا ہے، یعنی ایک حد یا Peak point ہوتا ہے جس سے آگے وہ چیز نہیں بڑھ سکتی.

اسی طرح یہاں دو چیزوں کا موازنہ کیا جا رہا ہے. ،پہلی ہے کہ مقامِ فِکر یعنی سوچ و پچار، انسانی عِلم، ہماری سمجھ کی حد زماں و مکاں تک ہے یعنی اس دنیا اور کچھ دنیا سے آگے جسے سائنسی ٹرم میں( Time & space ) کہا جاتا ہے. اقبال فرماتے ہیں کہ سوچنے سمجھنے کی حد یہی ہے کہ انسان زماں و‫مکاں تک پہنچ سکتا ہے، اسی کو جانچ سکتا ہے ، اس میں اونچ نیچ کا موازنہ کرسکتا ہے، اپنی عقل کے بل بوتے پر چند نتائج اخذ کر سکتا ہے‫.

Allama Iqbal offeing Namaz in Qurtuba Mosque Spain and poetry is about time and Space
پھر بات آ جاتی ہے اللہ سے محبت کی، اُس کے ذکر کی حد کی ،تو یہاں سوچ و پچار نہیں، یہاں عقل و سمجھ نہیں، یہاں بس تسلیم کر لینا ہر ایک چیز کو،،یقیناً سجدے میں گر جانا، یعنی جھک جانا، اس کی مان لینا، پھر ہر چیز ، ہر غور و فکر، یا کسی قسم کے تردد کی کوئ گنجائش نہیں رہ جاتی. ” سُبحانَ ربیّ الاعلیٰ” پہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو کے، اس کی مرضی میں مرضی ملا کے، اس ذات کی تقلید میں اپنے آپ کو وقف کر دینا ،یہی مقامِ فِکر ہے.

ذکر و فکر

یہ ہیں سب ایک ہی سالِک کی جُستجو کے مقام
وہ جس کی شان میں آیا ہے ’عَلَّم الاسما‘
مقامِ ذکر، کمالاتِ رومیؔ و عطّارؔ
مقامِ فکر، مقالاتِ بوعلیؔ سِینا
مقامِ فکر ہے پیمائشِ زمان و مکاں
مقامِ ذکر ہے سُبحانَ ربیّ الاعلیٰ

ضرب کلیم

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *