Allama Iqbal Poetry with Explanation

فضا تنگ نہیں ہے، جب جُرأت ہو نمو کی۔ مُلکِ خدا بھی تنگ نہیں ہوتا، اے مردِ خدا!
اس مقطع میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی شخص جرات اور حوصلہ رکھتا ہے تو ممکن ہوتا ہے کہ کسی بھی سختی کا سامنا کرنا پڑے، لیکن اگر وہ جرأت رکھتا ہے تو فضائی محدودیتوں کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اسی طرح، اس مقطع میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ خدا کی ریاست میں بھی کبھی تنگی نہیں آتی، اور انسان کے پاس جو جرأت اور استواری ہوتی ہے، وہ ہر مشکل کو پار کر سکتا ہے۔
Allama Iqbal poetry, tasleem o Raza

ہر شاخ سے يہ نکتہ پيچيدہ ہے پيدا

پودوں کو بھي احساس ہے پہنائے فضا کا

ظلمت کدئہ خاک پہ شاکر نہيں رہتا

ہر لحظہ ہے دانے کو جنوں نشوونما کا

فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہ عمل بند

مقصود ہے کچھ اور ہي تسليم و رضا کا

جرات ہو نمو کي تو فضا تنگ نہيں ہے

اے مرد خدا، ملک خدا تنگ نہيں ہے

Allama Iqbal

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *