پنجابی مسلمان: علامہ محمد اقبال-Punjabi Muslman by Allama Iqbal

آپ عشاء کی سترہ رکعتیں پڑھتے تھے پھر علم حاصل کیا تو نو رکعتیں پڑھنے لگ گئے، آپ سادہ سے بندے تھے، سالوں سے عصر کی آٹھ رکعیتں پڑھتے تھے۔۔ کچھ پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگ گئے تو انہوں نے بتایا کہ عصر کی چار رکعتیں تو

May be an image of 1 person and the Western Wall

سنت غیرمؤکدہ ہیں چار رکعتیں فرض ہیں۔ آپ کو پتہ چلا کہ سنت ہیں آپ نے پڑھنا چھوڑ دیا۔. جب آپ کو پتہ چلا کہ سنت ہیں آپ نے چھوڑ دیا تو بتائیں سنت کو اہمیت دی یا نظر انداز کیا ۔
آپ زندگی بھر رمضان کی قدر کرتے تھے، دن روزوں سے گزارتے اور آپ کی راتیں تراویح سے مزین ہو
تی تھیں، پھر کسی دن کسی عالم سے سن لیا کہ تراویح تو ایک زائد عبادت ہے۔ تیس سال پڑہنے کے بعد غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ بیٹھے تو یاد رک
ھئے یہ نفع بخش علم نہیں نقصان دہ علم ہے۔ یہ خدا کی بندگی نہیں بندگی سے فرار ہے جس کو آپ علم سمجھتے ہیں۔
آج کل کا مسئلہ جہالت نہیں بلکہ بڑا مسئلہ علم ہے۔ آج کی جہالت پتہ نہ ہونے سے نہیں بلکہ دور جدید کی جہالت پتہ ہونا ہے۔ لوگ اس وجہ سے گمراہ نہیں ہورہے کہ انہیں پتہ نہیں بلکہ اس وجہ سے گمراہ ہورہے ہیں کہ انہیں پتہ ہے۔ اور ایسا علم جو خدا کو بندے سے دور کردے تو وہ مفید علم نہیں بلکہ مضر ہے۔ خدائے تعالیٰ ایسے علم سے بچائے جو خود خدا سے دور کردے۔۔ آمین یارب العالمین❤️
پنجابی مسلمان: علامہ محمد اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *