نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیّری

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیّری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
یہ شعر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے جہاد کے حوالے سے ہے۔ اس میں علامہ اقبال ان کی جدوجہد اور جذبے کو ایک عظیم رسم یا روایت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا جہاد ، کربلا کا واقعہ تھا جو اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ اس واقعے کے دوران، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے 72 چھوٹے جوانوں نے ایک بڑی لڑائی میں یزید کے فوجیوں سے مقابلہ کیا۔
علامہ اقبال کے ان شعروں میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شبیری کی عظمت اور شانداری کو اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم خانقاہوں سے باہر نکلو اور شبیری کی رسم ادا کرو، یعنی حسینی جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ یہاں پر “خانقاہی” کا مطلب ہے روحانیت اور مذہبی روایات کا پیروی کرنے والے، جبکہ “شبیری” کا مطلب ہے جنگ کی تیاری اور جذباتی پختگی۔
دوسری مصرعے میں انہوں نے کہا ہے کہ خانقاہیوں کی زندگی صرف اندوہ و غم سے بھری ہے، یعنی وہ دنیا کے چند رنگوں اور محنتوں سے دور، روحانیت کی راہ میں مشغول ہیں اور ان کے دل میں داغِ تاسف ہے۔
لیکن حسین رضی اللہ عنہ کی شبیری جنگ میں جذباتی جیوش اور عالمی انصاف کے لئے ان کی قربانی نے ان کے دل کو خوشی اور پر امیدی سے بھر دیا۔
یہ شعر انتہائی خوبصورت انداز میں اسلامی تاریخ کے ایک اہم واقعے کو پیش کرتا ہے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت و قربانی کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *