لا الہ الااللہ

ایک چھوٹی سی تحریر اپنی سوچ کے مطابق………..!
” لا الہ الااللہ محمد الرسول اللہ “
یہ وہ کلمہ ہے جو اس کائنات کے وجود کی وجہ ہے. اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ اسی کے مفہوم سے منسلک ہے.
1. لا الہ : –
زمانۂ جاہلیت کا کلمہ ،جو خدا کے وجود کے منکر تھے، جن میں کہیں فرعون تھے تو کہیں نمرود.
2. لا الہ الاللہ : –
انسان نے شعور حاصل کیا انبیاء علیہم السلام سے یا اللہ کے بھیجے ہوئے دوسرے پیغمبروں سے اور ان کا نظریہ بدلا، ان کو معلوم ہوا کہ اس کائنات کی وجۂ تخلیق وہ واحد لا شریک ہے، لہٰذا ان کا کلمہ لا الہ الاللہ ہوا.
3. لا الہ الااللہ محمد الرسول اللہ : –
اللہ رب العزت نے یہاں پر کائنات کی تکمیل کر دی، قرآن مجید اور نبی آخر الزماں کا نزول ہوا، حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے شروع ہونے والے انقلاب کی یہاں تکمیل ہوئ.
کائنات کی مختلف رازوں کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی جس میں تکمیل دین کی صراحت کی گئی ہے:
”الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَم دیناً․“(المائدہ:۳)
(آج ہم نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔)
یہاں پر ہر قسم کی کنفیوژن دور ہو جاتی ہے لیکن……………….
ایک نیا طبقہ یہاں پر اپنا نظریہ لے کر کھڑا ہو جاتا ہے جو خود کو “ملحدین” کہلواتے ہیں. اِن کو لگتا ہے کہ یہ شعور کی انتہائی منزل پر پہنچ چکے ہیں لیکن افسوس انتہائی افسوس کہ ان کے شعور نے ان کو پھر ہزاروں سال پیچھے دھکیل دیا ہے ،اور یہ ” لا الہ ” پر آن کھڑے ہوئے ہیں.
علامہ محمد اقبالؒ کی نظم ” لا و اِلّا “
فضائے نُور میں کرتا نہ شاخ و برگ و بر پیدا
سفر خاکی شبستاں سے نہ کر سکتا اگر دانہ
نہادِ زندگی میں ابتدا ’لا‘، انتہا ’اِلّا‘
پیامِ موت ہے جب ’لا ہوُا ’اِلاّ‘ سے بیگانہ
وہ مِلّت رُوح جس کی ’لا ‘سے آگے بڑھ نہیں سکتی
یقیں جانو، ہُوا لبریز اُس ملّت کا پیمانہ
اللہ پاک ہم سب کے ایمان محفوظ فرمائے، اٰمین

Similar Posts

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *