حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اقبال کے خواب میں

آج کی نظم:-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اقبال کے خواب میں
قل ھواللہ احد
کہہ دو وہ اللہ ایک ہے
من شبے صدیق را دیدم بخواب
گل زِ خاک راہِ اُو چیدم بخواب
ایک رات میں نے خواب میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا
آپ کے راستے کی خاک سے میں نے خواب میں پھول چنے
آں امن الناس بر مولائے ما
آں کلیم اوّل سینائے ما
آپ سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہمارے مولا ہیں
آپ ہمارے طور( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کے پہلے کلیم ہیں
ہمت اُو کشت ملت را چو ابر
ثانی اسلام و غار و بدر و قبر
آپ کی ہمت امت کی کھیتی کے لئے بادل کی مانند ہے
آپ ثانی اسلام و غار وبدر و قبر ہیں
گفتمش اے خاصہَ خاصانِ عشق
عشقِ تو سرمطلعِ دیوانِ عشق
میں نے آپ سے کہا کہ آپ عشق کے خاصوں سے بھی خاص ہیں
آپ کا عشق دیوان عشق کا پہلا شعر ہے
پختہ از دستت اساسِ کار ما
چارہ ے فرما پے آزارِ ما
آپ کے ہاتھوں سے ہمارے کاموں کی بنیاد مضبوط ہوئی
آپ ہمارے دکھ درد کا علاج فرمائیں
گفت تاکہ ہوس گردی اسیر
آب و تاب از سورہ اخلاص گیر
حضرت صدیق نے فرمایا کہ کب تک اُمت حرص و ہوس میں مبتلا رہے گی
اس اُمت کو سورہ اخلاص سے چمک دمک حاصل کرنی چاہیے
ایں کہ در صد سینہ پیچد یک نفس
سرے از اسرارِ توحید است و بس
یہ جو ہزاروں سینوں میں ایک ہی طرح سے سانس چل رہا ہے
یہ توحید کے رازوں میں سے ایک راز ہے
رنگ اُو برکن مثالِ او شوی
در جہاں عکس جمال او شوی
اس جہاں میں تو اس کے رنگ کو اختیار کر کے اس کی مانند ہو جا
اس جہاں میں اُس کے جمال کا عکس بن جا
آنکہ نامِ تو مسلماں کردہ است
اذ دوئی سوے یکی آورہ است
وہ ذات کہ جس نے تیرا نام مسلماں رکھا ہے
وہ تجھے دوئی سے وحدت کی طرف لائی ہے
خویشتن را ترک و افغان خواندہ ای
وائے بر تو آنچہ بودی ماندہ ای
تو خود کو ترک اور افغان کہلانا پسند کرتا ہے
افسوس تجھ پر کہ تو جو تھا اب نہیں ہے
وارہاں نامیدہ را از نامہا
ساز با خم در گذر از جامہا
تو اس قوم کو اتنے سارے ناموں سے نجات دلا
تو صراحی سے موافقت کر اور پیالوں سے جان چھڑا
اے کہ تو رسواے نام افتادہ عی
از درخت خویش خام افتادہ ای
اے کہ تو (قوم) اتنے سارے ناموں کی وجہ سے رسوا ہو گئی ہے
اور اپنے درخت سے کچے پھل کی طرح گر گئی ہے
با یکی ساز از دوئی بردار رخت
وحدت خود را مگرداں لخت لخت
تو توحید سے تعلق جوڑ اور دوئی کو رخصت کر دے
اپنی وحدت کو اس طریقے پر ٹکڑے ٹکڑے نہ کر
اے پرستار یکی گر تو توئی
تا کجا باشی سبق خوانِ دوئی
اے ایک کے پوچنے والے اگر تو تو ہے
تو کب تک دوئی کا سبق پڑھتا رہے گا
تو درِ خود را بخود پوشیدہ ای
در دل آور آنچہ بر لب چیدہ ای
تو نے اپنا دروازہ اپنے اوپر خود بند کر لیا ہے
تو جو زبان سے کہتا ہے دل سے بھی ادا کر
صد ملل از ملتے انگیختی
برحصارِ خود شبخوں ریختی
تو نے ایک ملت کی سو ملتیں بنا لیں ہیں
اپنے قلعے پر خود ہی شب خوں مارا ہے
یک شو و توحید را مشہود کن
غائبش را از عمل موجود کن
ایک ہو جا اور توحید کا اظہار کر دے
اپنے عمل سے غائب کو موجود کر دے
لذتِ ایماں فزاید در عمل
مردہ آں ایماں کہ ناید در عمل
ایمان کی لذت عمل کرنے سے بڑھتی ہے
مردہ ہے ایمان جس میں عمل نہ ہو
علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ علیہ
کتاب:رموزِبےخودی

Similar Posts

One Comment

  1. Hi There, My name is Mahmud Ghazni, and I am a professional WordPress and SEO expert with substantial experience in web design, development, and optimization. I recently had the chance to explore your website and was impressed by the foundations you have built using WordPress.

    As a professional in this field, I can offer a range of services from Design/Development, Theme Setup/Customization to Speed Optimization, Security Setup, and more. Additionally, I excel at ensuring your website ranks at the top in Google searches.

    If you’re interested in exploring these potential improvements for your site, I would be more than happy to discuss your specific needs. I look forward to possibly collaborating and taking your website to new heights.

    Best Regards,

    Mahmud Ghazni
    WordPress & SEO Expert
    WhatsApp: +880 1322-311024
    Email: contact@ghazni.me

    Note: If my services do not align with your current needs, please feel free to disregard this message. I appreciate your understanding.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *