اقبال – آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

 علامہ اقبال-آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
عقل گو آستاں سے دُور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
عِلم میں بھی سُرور ہے لیکن
یہ وہ جنّت ہے جس میں حور نہیں
کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں
ایک بھی صاحبِ سُرور نہیں
اک جُنوں ہے کہ باشعور بھی ہے
اک جُنوں ہے کہ باشعور نہیں
ناصبوری ہے زندگی دل کی
آہ وہ دل کہ ناصبور نہیں
بے حضوری ہے تیری موت کا راز
زندہ ہو تُو تو بے حضور نہیں
ہر گُہر نے صدَف کو توڑ دیا
تُو ہی آمادۂ ظہور نہیں
’اَرِنی‘ میں بھی کہہ رہا ہوں، مگر
یہ حدیثِ کلیمؑ و طُور نہیں
جو عقل رکھتا ہے، دلائل دیتا ہے، ہر چیز میں وجہ تلاش کرتا ہے، یقینی طور پر وہ حقیقت کے اس دروازے تک تو پہنچ جاتا ہے لیکن وہ دروازہ اس کے لیے کبھی کھلتا نہیں ہے۔ کچھ چیزیں یقین اور ایمان کے ساتھ ملتی ہیں، وہ تقدیر کی طابع ہوتی ہیں ان پر انسان کی عقل (reason) بے سود ہے چاہے وہ جتنی بھی کوشش کر لیں۔
اسی کا حوالہ دوسرے شعر میں دیا ہے کہ آنکھ کے نور (عقل) سے دل کا دیا نہیں جلتا اس کے لیے اپنے فلسفہ کو بالائے طاق رکھ دینا چاہیے اور صرف جستجو اور طلب کی طرف دھیان دینا چاہیے۔
دل کا نور اور آنکھ کا نور دو علیحدہ چیزیں ہیں۔
اپنے دل کو روشن کرنے کیلئے خدا سے التجا کرو۔
علم ذہن کو روشنی تو دیتا ہے،
لیکن یہ وہ جنّت ہے، جہاں حوروں کا ظہور نہیں ہو سکتا، یعنی منزل نہیں مل سکتی، راستے چاہے جتنے مرضی ایجاد کر لو۔
یہ عجیب بات ہے، بلکہ افسوس کی بات ہے کہ آج کے دور میں کوئی بھی سچی خوشی کا مالک نہیں ہے، یعنی حقیقی عشق کا سرور کسی کو حاصل نہیں ہے۔
کچھ جنون ایسے ہوتے ہیں جو ذہن کو محفوظ رکھتے ہیں،
اور کچھ جنون ایسے ہوتے ہیں جو حقائق سے آنکھیں چھپا دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عشق وہ ہے جو انسان کو ایک حقیقت کی طرف لے جاتا ہے، اس کے عشق میں ایک طلب اور حقیقت پائ جاتی ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس چیز کی جستجو میں ہے۔ دوسری جانب وہ بندہ جو عقل کا غلام ہے، وہ نفع و نقصان کی کشمکش میں رہتا ہے کہ آیا اس کو کچھ حاصل بھی ہوگا کہ نہیں۔
بے قراری دل کی زندگی کی حیثیت رکھتی ہے،
ایسا دل افسردہ ہو جائے تو بہت برا ہوتا ہے۔
ایک دل وہ ہے جو ہر وقت کسی حقیقی خواہش کی پرورش کرتا رہتا ہے، وہ دل جس میں آرزو کبھی نہیں مرتی، وہی دل زندہ دل کہلاتا ہے اور وہی دل آرزو پاتا ہے، اگر ایسا نہیں ہے تو وہ دل مردہ ہے۔
تیری موت کا راز تیری الگ تھلگی سے ہوتا ہے۔
اگر تو زندہ ہو تو تو خدا کے قریب ہو۔
جب تو خدا سے دور ہوجاتی ہے تو تیری موت وہیں ہوجاتی ہے، کیونکہ ایک انسان کا محور ہی خدا ہے، اسے خدا کا ہی ساتھ چاہیے ہوتا ہے ہمیشہ، جب انسان اسی سے دور ہوجاتا ہے تو ظاہر ہے وہ زندہ ہو کر بھی زندہ نہیں ہے۔
تمام موتیوں نے اپنی خول توڑ کر باہر نکل آئے ہیں،
لیکن تو ابھی نکلنے کو تیار نہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ انسان ایک موٹی کی مانند ہے جس کو اپنی قدر و قیمت معلوم ہونی چاہیے، بس اس کو اپنے آپ کو اجاگر کرنا پڑتا ہے، اپنی قدر و قیمت کے لیے steps لینا پڑتے ہیں، کہیں پر بیٹھے بٹھائے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
میں بھی ارنی [(لفظاً) ‘ارنی’ (رک) کہنے والا، (مراداً) حضرت موسیٰ کلیم اللہ جنہوں نے طور پر خدا سے اُس کا جمال دیکھنے کی درخواست میں ‘ارنی’ کہا تھا)] کہ رہا ہوں
لیکن یہ موسیٰ اور طور کی کہانی نہیں ہے، یہ میری اپنی التجا ہے، میرا اپنے رب کو بلانے کا اپنا ایک طریقہ ہے۔
اس کلام میں اقبال نے زندگی کی حقیقتوں اور معنوں پر غور کیا ہے۔ اس کے ذریعے وہ بیان کر رہے ہیں کہ آنکھوں کی روشنی، دل کی روشنی، اور عقل کی روشنی علیحدہ ہیں اور خدا سے روشن دل کی التجا کرنی چاہئے۔ وہ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ علم ذہن کو روشن کرتا ہے لیکن یہ جنّت کے روشنیوں سے محروم ہے۔ اقبال نے عجیب معمولات کو بیان کیا ہے کہ جہاں کوئ بھی شخص کو حقیقی خوشی کا حقدار نہیں ہوتا اور دل کے قرار سے محرومی اور بے قراری کی معنوں کو سمجھایا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آدمی کی موت خدا سے الگ ہونے سے ہوتی ہے اور اگر زندہ ہوتا ہے تو وہ خدا کے قریب ہوتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *