اسی میں حفاظت ہے انسانیت کی- Allama Iqbal

اقبال نے پیغمبر ﷺ کی تعریف میں اسے جُنیّدی اور اردشیری دونوں کے طور پر ستائش دی ہے، یعنی وہ دونوں دنیاوی اور روحانی دونوں میں بہترین تھے۔ وہ اللہ کے عاشق اور لوگوں کے رہنما، صوفی اور ریاستدان، عارف اور جنگجو تھے۔ انہوں نے اللہ اور انسانیت کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور اپنے باطنی اور ظاہری جہات کو موازنہ دیا۔
 
 
کلیِسا کی بُنیاد رُہبانیت تھی
سماتی کہاں اس فقیری میں مِیری
خصومت تھی سُلطانی و راہبی میں
کہ وہ سربلندی ہے یہ سربزیری
سیاست نے مذہب سے پِیچھا چھُٹرایا
چلی کچھ نہ پِیرِ کلیسا کی پیری
ہُوئی دِین و دولت میں جس دم جُدائی
ہوَس کی امیریِ، ہوَس کی وزیری
دُوئی ملک و دِیں کے لیے نامرادی
دوئی چشمِ تہذیب کی نابصیری
یہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا
بشیری ہے آئینہ دارِ نذیری!
اسی میں حفاظت ہے انسانیت کی
کہ ہوں ایک جُنیّدی و اردشیری
 
یہ شاعری اللامہ اقبال کی ہے، پاکستان کے معروف شاعر اور فلسفی کی، جو نبی محمد ﷺ کی تعریف کے لئے لکھی گئی ہے۔ انہوں نے یہ کلام اسلام کے پیغمبر کی پیشہ ورانہ اور سیاسی حیثیتوں کا موازنہ کرنے کے لئے لکھا ہے۔
 
“آئینہ دارِ نذیری” قرآن کو ظاہر کرتا ہے، جو اللہ کا کلام ہے جو پیغمبر کو وحی کیا گیا۔ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت اور فرقان ہے، اور یہ پیغمبر کی شخصیت اور چال چلن کا مثالی اظہار کرتا ہے۔
 
“جُنیّدی” وہ شخص ہے جو جنید بغدادی کی تعلیمات کا انتہاع کرتا ہے، جو 9صدی کے مشہور صوفی اور عارف تھے۔ جنید بغدادی واحدیت الوجود کی صوفی عقیدے کے بنیادی تعلیمات دیتے ہیں، جس میں اللہ کی ایک ہونے اور خود کو اس کی محبت میں غائب کرنے کا تاکید ہوتا ہے۔ جُنیّدی وہ شخص ہے جو اللہ کی طرف دلچسپی رکھتا ہے اور روحانی عملات اور اخلاقی اخلاقیات سے اس کی قربانی دیتا ہے۔
 
“اردشیری” وہ شخص ہے جو اردشیر بابکان کے مثالوں کا انتہاع کرتا ہے، جو تیسری صدی میں ایران میں ساسانی سلطنت کے بانی تھے۔ اردشیر بابکان کو ایک عظیم بادشاہ اور زرتشت دین کے اصلاح کار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک مضبوط اور مرکزی حکومت قائم کی جو اپنے حدود بڑھا کر رومن سلطنت سے مقابلہ کرتی ہے۔ ایک “اردشیری” وہ شخص ہے جو دنیاوی معاملات میں جسمہ وجدانی اور عزت کی طلب کرتا ہے
 
دُوئی ملک و دِیں کے لیے نامرادی
دوئی چشمِ تہذیب کی نابصیری
یہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا
بشیری ہے آئینہ دارِ نذیری!
اسی میں حفاظت ہے انسانیت کی
کہ ہوں ایک جُنیّدی و اردشیری

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *